Kashmir Jihad Going The Way Of Afghanistan

Former J&K CM Farooq Abdullah has warned India that ‘you are losing Kashmir‘. India is unlikely to take his advise and abandon their military approach to putting down the anger that is spreading like wild fire due to the abuses that has caused an ‘epidemic of dead eyes‘. This is because Indian authorities suffer from an ideological blindness that does not allow them to see how their actions are actually counter to their own cause. Unfortunately, we also suffer from an ideological blindness about our policies and strategies in Kashmir.

There have been worrying signs for a while now. Members of Jamaatud Dawah, which has close ties with state agencies, have begun joining Daesh. Black flags of Daesh have been raised along side Pakistan flags in Kashmir. This practise has become so common that even Syed Ali Shah Geelani was forced to publicly comment on it. And now it appears that it is the Pakistani flags that may be disappearing as Kashmir militants are calling for jihad in Pakistan also:

We do love Pakistan because that country was created in the name of Islam. But there is no Islam at present. So, we are unhappy with it. We have to do Jihad with Pakistan as well.

Just as our support for Taliban in Afghanistan spun off the TTP to carry out deadly jihad in Pakistan, now it looks like our support for jihad in Kashmir is having the same effect.

India jumps to conclusions while NDU analyst explains strategy behind Uri attack

Uri attackAfter the deadliest attack on Indian security forces in Indian occupied Kashmir, Indian officials were quick to jump to conclusions and take the opportunity to blame Pakistan. Indian Home Minister Rajnath Singh jumped at the opportunity to term Pakistan as a ‘terrorist state‘ on social media even before the smoke had cleared.

Pakistani anchors close to the establishment quickly responded with conspiracy theories, terming the attack as a ‘false flag’ and accusing Indian Army of killing its own soldiers just to blame Pakistan. Moeed Pirzada posted a long piece in which he asks this very interesting question:

So how does Pakistan or its institutions benefit from an attack on Army base in Uri in the morning of 18th September, which will be immediately blamed on Pakistan, just three days before the UN General Assembly speech of Pakistani Prime Minister where he was supposed to raise Kashmir and the continuous humanitarian violations by the Indian government?

Actually, the answer was given by NDU graduate Salman Javed who is now director of CSCR, a ‘think tank’ under the oversight of Lt Gen (r) Naeem Khalid Lodhi with possible links to national agencies.

Salman Javed with former DG ISI Gen Hamid GulSalman Javed visiting with Lt Gen (r) Hamid Gul

While many were trying to promote the ‘false flag’ conspiracy theory, Salman Javed was doing the opposite. On social media the NDU strategist praised the attack and tried to explain why it was in Pakistan’s interest.

NDU graduate Salman Javed explains Uri attack strategy

On Twitter the NDU strategist clarified that Uri attack was not a ‘false flag’, and was very frustrated that more people were not understanding the strategy behind the attack and asking social media activists to get in touch with actual jihadis fighting on the ground in Kashmir for further clarification.

salman-javed-uri-attack-not-false-flagsalman-javed-uri-attack-strategy-1salman-javed-get-in-touch-with-militantsThere is no doubt that human rights atrocities in Indian occupied Kashmir have become a humiliation for India. Pakistani diplomats preparing to bring this case to the world’s attention at the UN, but India tried to distract attention away by pointing fingers at human rights atrocities taking place in Balochistan. According to this NDU strategist, Uri attack was timed to put attention away from Balochistan and back to Kashmir which is India’s weak point. It is important to note that in this thinking, if Kashmiri jihad is completely justified, so why deny it?

The facts about Uri attack are still coming out, but one thing is certain: This NDU strategist’s answer to Moeed Pirzada’s question, ‘how does Pakistan or its institutions benefit from an attack?’ is much more believable than claiming Indian Army killed its own soldiers.

ماروی سرمد:کلوزنگ جہاد فیکٹریز

Al-Badar Mujahideen funeral

پچھلا جمعہ مالا کنڈ کا پچھلے کئی مہینوں کا خونی ترین دن ثابت ہوا .میڈیا رپورٹس کے مطابق اس دن دیر نے اکیس تابوت اٹھائے .
لوئر اور اپر دیر میں یہ تابوت افغانستان کے صوبے خوست سے آئے .جہاں پر امریکی ڈرون حملے کے نتیجے میں ،ایک دہشتگردوں کے ٹریننگ کیمپ میں خود کش بمباری کی ٹریننگ حاصل کرتے ہوے یہ پاکستانی ہلاک ہوئے .خوست کے گورنر کے مطابق ہلاک شدہ پاکستانیوں کی تعداد پچاس سے زیادہ ہے .
مقامی افراد کے مطابق یہ تابوت ،البدر تنظیم کے پرچم میں لپٹے ہوئے تھے .کچھ لاشیں تو صرف جسم کے چند حصوں پر مشتمل تھیں .اس خبر کے بعد یہ نیوز مکمل اندھیرے میں چلی گئی .پرنٹ میڈیا پر بھی صرف انگلش اخبارات میں اس کی خبر چھپی .ہمارے الیکٹرانک میڈیا نے “سیلف سنسر شپ ” کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس پر کوئی خبر نہیں دی ،سیلف سنسر شپ اس لئے کہ کسی ریاستی ادارے نے سنسر شپ کے احکامات جاری نہیں کئے ہوئے ہیں . عام طور پر چیختے چنگھاڑتے اینکرز نے اس موضوع پر اپنے لب سی لئے .

اگر آپ البدر کی تاریخ پڑھیں تو اس خاموشی کی وجہ سمجھ میں آتی ہے .اس نام کا گروپ انیس سو اکہتر میں پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کی “پرا کسی” کے طور پر بنگالیوں کی “مکتی باہنی” جو کہ انڈیا کی پراکسی تھی کے خلاف استمعال ہوا تھا .مشرقی پاکستان اس وقت ان ڈان تنظیموں کی لڑائی کا اکھاڑا بن گیا جب بنگالی عوام کے پاکستان سے لاتعلقی کے جذبات نے اسکو فروغ دیا .مکتی باہنی اور البدر بمع اسکی ذیلی تنظیم الشمس نے اس دور میں سنگین جنگی جرائم کا ارتکاب کیا .
حمود الرحمان کمیشن رپورٹ کے چیپٹر نمبر دو کے نکتہ نمبر میں اٹھائیس میں لکھا ہے کہ
“ہمیں پاکستان آرمی کی جانب سے بنگالی دانشوروں اور پروفیشنلز کے قتل عام کا کوئی ثبوت نہیں ملا .اگر بنگلہ دیش حکومت کے پاس اسکا کوئی ثبوت ہے تو مہیا کرے “مگر اسی صفحے کے آخر میں اس بھوت کا ذکر ہے جس نے بنگلادیشی دانشوروں اور پروفیشنلز کا قتل کیا جس کا الزام پاکستان آرمی پر لگایا جاتا رہا جو اس وقت کے مشرقی پاکستان میں تعنیات تھی .کچھ یوں لکھا تھا کہ
” اب یہ بات معلوم ہو چکی ہے کہ اتوار بارہ دسمبر انیس سو اکہتر کو انڈین آرمی ڈھاکہ کے قریب پہنچ چکی تھی ،اس وقت پاکستان کے آرمی افسران اور انکے حامی سولین حمایتیوں کی صدارتی آفس میں ملاقات ہوتی ہے .یہ دونوں مل کر دو سو پچاس ایسے دانشوروں اور پروفیشنلز کے ناموں کی لسٹ بناتے ہیں جو کہ ڈھاکہ کی “کریم” ہے اور انہیں گرفتار یا ہلاک کرنے کا منصوبہ بناتے ہیں .یہ گرفتاریاں پیر اور منگل کو سرکاری سر پرستی میں چلنے والی البدر تنظیم کے زیر عمل ہو جاتی ہیں .سرکاری ہتھیار ڈالنے کے اعلان سے صرف ایک دن قبل ،البدر ان لوگوں کو گروپس میں تقسیم کر کے انکا قتل عام کر دیتی ہے “
گو کہ ان اکیس لاشوں کی خبر تو ہمارے میڈیا کی سکرینوں پر نہ چمک سکی .مگر جماعت اسلامی کے دو رہنماؤں کی ہلاکت کی خبر ،اس پر گرما گرم مباحثہ اور ان لیڈرز کے حق میں بیانات ،اور ہیڈلاینز خوب زور شور سے جگمگاتی رہی کیونکہ میڈیا میں اینکرز کی اکثریت پرو جماعت اسلامی ہے یا اکثر محب وطن بنانے کے شوق میں یہ سب کر رہے تھے . دلیل یہ تھی یہ لیڈرز جو پھانسی چڑھے پرو پاکستانی تھے .یہ بات تو ماننی چاہئے کہ ہر انسان کو “فیئر ٹرائل ” کا حق ملنا چاہئے ،چاہے اسکا تعلق بنگلہ دیش سے ہو ،بلوچستان سے ،سعودی عرب سے ہو یا ایران سے ہو .
البدر کی جانب واپس چلتے ہیں .1971 کے جنگی جرائم کے الزامات کے بعد یہ گروپ منظر نامے سے غائب ہو جاتا ہے .لیکن اچانک 1985 میں ایک بار پھر جماعت اسلامی کے بینر تلے افغان جہاد میں یہ تنظیم ایکٹو ہو جاتی ہے .افغان جہاد کے ہی دنوں میں البدر گلبدین حکمت یار کی حزب اسلامی میں ضم ہو جاتی ہے .بعد میں مقبوضہ کشمیر میں جہاد کے دوران یہ حزب المجاہدین کے نام سے کام کرتی ہے .اس وقت البدر کے ممبران “مجاہدین” اور اب “دہشتگردوں ” کے نام سے سے پکارے جاتے ہیں .انیس سو نواسی میں امریکا اس گروپ کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے .
لیکن ٹریننگ کیمپس طالبان کے دور میں افغان زمین پر جاری رہتے ہیں .اس دوران پاکستان میں صوبہ سرحد اور اب پختون خوا میں بھی ٹریننگ کیمپس مانسہرہ کے علاقوں میں قائم رہتے ہیں .انیس سو اٹھانوے میں جا کر کہیں بخت زمین اس تنظیم کو دوبارہ مقبوضہ کشمیر کی آزادی کا نعرہ لگا کر کھڑا کر دیتے ہیں .عجیب بات یہ ہے کہ البدر کے اکثر کارکن خود کشمیری نہیں تھے اور نہ ہی بخت زمین کشمیری تھے ہاں اسکے بانی لیڈران میں سے شمار کئے جانے والے عارفین جو جانثار اور لقمان کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں وہ نسلا کشمیری تھے .انکا تعلق آزاد جموں کشمیر سے تھا .
2002 میں یہ گروپ اب امریکن اور نیٹو افواج کے خلاف افغانستان کو آزاد کرانے کا مشن پر جت جاتا ہے .اسکے ساتھ ساتھ یہ اسرائیل اور تمام اتحادی ممالک کے خلاف بھی جہاد کا اعلان کر دیتا ہے .یہ بات بھی یاد رہے کہ افغان طالبان کی طرح البدر نے کبھی پاکستان آرمی کے خلاف کسی لڑائی میں حصہ نہیں لیا .بلکہ البدر کے حلقے تو کارگل کی جنگ میں پاکستان آرمی کے ساتھ لڑنے اور انڈین آرمی کو نقصان پہنچانے کے دعوے کرتے رہے .
ایک بات یا لنک جو اس سارے عرصے میں یکساں رہا ہے وہ جماعت اسلامی اور جماعت الدعوہ ہے .بلکہ کئی بار تو البدر تنظیم ، القاعدہ ،تحریک طالبان پاکستان ،اور لشکر طیبہ کے پاکستان میں “تسلیم شدہ” سیاسی اور سوشل گروپس جماعت اسلامی ،اور جماعت الدعوہ میں رابطے کا واسطہ رہے .تحریک طالبان کا چیف ملا فضل الله جماعت اسلامی کا رکن رہا تھا .بعد میں اس نے اپنی تنظیم تحریک نفاذ شہریت شریعت محمدی بنا لی تھی .
القاعدہ کے کئی سرگرم رکن جماعت اسلامی کے لیڈران کے گھروں سے برآمد ہوئے .2004 میں القاعدہ کا نمبر تھری خالد شیخ محمد جماعت اسلامی کی ایک خاتون ونگ لیڈر کے روالپنڈی کے ایک گھر سے گرفتار ہوا .اسی طرح ابو زبیدہ بھی بھی اسی سال پکڑا گیا جیسا لشکر طیبہ اور جماعت الدعوہ نے پناہ مہیا کر رکھی تھی .
ابھی حال ہی میں ستمبر 2013 میں القاعدہ کا ایک رکن جو فدائین کی ٹریننگ کے بعد لاہور آیا تھا ،پنجاب یونیورسٹی کے ہوسٹل نمبر ایک کے کمرہ نمبر 237 سے اسلامی جمعیت طلبہ کے اس وقت کے ناظم لاہور ،احمد سجاد کے نام سے الاٹ تھا ، جو کہ جماعت اسلامی کی طلبہ تنظیم ہے ،اس سے پکڑا گیا .
جماعت اسلامی کے سابق امیر اکثر پاک فوج کے خلاف اور تحریک طالبان کے حق میں بیانات دیتے رہے .بلکہ انہوں نے تو خود کش حملوں کے خلاف بیان دینے سے بھی انکار کر دیا تھا .
طویل کہانی کو مختصر کریں تو جماعت اسلامی کے لیڈرز جن کے گھروں سے پاکستانی عوام اور فوجیوں کو قتل کرنے والے دہشت گرد پکڑے گئے ،جماعت الدعوہ اور لشکر طیبہ جن کے القاعدہ اور تحریک طالبان سے تعلقات ہیں ،انکے سپورٹر جیسے ملا عبدلعزیز وغیرہ یہ سب کھلے عام دند ناتے پھر رہے ہیں .یہ کبھی ملک کے خلاف بیانات دیتے ہیں تو کبھی رٹ توڑتے ہیں مگر انکے خلاف کوئی کاروائی کی آواز بھی بلند نہیں کر سکتا .
لوئر اور اپر دیر میں اکیس نوجوانوں کے قاتل یہ جبری تنظیمیں ہمارے نوجوانوں کو جہاد کے نام پر مروا رہی ہیں .انکے خلاف کسی قسم کی کاروائی فی الوقت ایک دیوانے کا خواب ہے

Originally published by The Nation on 24 November 2015

Time to bury the ideology of jihadi generals

Mian Saifur Rehman has written a piece of exceptional analysis, laying the facts plainly before anyone who will read them. He has done such an excellent job that there is not much more than can be added.

It’s about time we realised the reality that the dangers to the country are from within more than dangers from one or two foreign countries and their agencies. The solid fact must not be overlooked that no inimical agency of the world can operate so freely, frequently and at the spot of choice and against the personality of choice without facilitation from inside Pakistan. Then, unfortunately, a large number of our people, especially those hailing from some areas within the tribal and semi-tribal belt and in some parts of southern Punjab and southern Pakistan (meaning Karachi and Balochistan) possess the inherent tendency of dealing with others through gun. They subdue the people around them or those in business with them with the show- and use- of weaponry and flee to safe havens that have, however, squeezed in tribal belts following the Operation Zarb-e-Azb. Now these people have started taking refuge in ‘other parts’ of the country with the tacit- or sometimes open- support of people who mistake terrorists for Jihadists fighting a holy war which, in fact, is not at all a holy war but simply a madness-driven bloodbath unleashed by Muslims against Muslims. This is the most painful aspect of the whole terrorism saga that Muslims are eliminating Muslims just for no reason or rhyme. No religion allows the killing of any human being in this manner. A faithful has no moral, religious, social or legal right to kill any other human being, let alone faithful from any faith. If all owes to some conspiracy, regional, local or global, the conspirators are superb people (or outfits, if not institutions like RAW etc) that they have been successful in putting a wedge in the unity of people who stand committed to one faith. But these conspirators are less to blame than our own brethren who become their tools. Even strategically and for all practical purposes, little can be done (something can be done through counter-espionage and other similar acts but that won’t be too much advisable or frequently practicable) about foreign conspirators.

It should be noted that this wisdom has been published while the nation is in the midst of celebrating the lives of two Generals Hamid Gul and Ziaul Haq who are more responsible than most for creating the sad and dangerous situation we find ourselves in. If Pakistan is to live, it is the ideology of these jihadi Generals that must be finally buried with them.

If we support Hafiz Saeed’s jihad, why not just say so?

Government gave what has to be one of the weakest excuses for not going after a jihadi group today. According to Minister for States and Frontier Region retired Gen Abdul Qadir, Jamaat-ud-Dawa will not be proscribed even though it has been termed a terrorist group by the United Nations because the UN did not share any evidence against with Pakistan. This is the same excuse that was given by government when the world said that Osama bin Laden was believed to be living in Pakistan. It’s the same excuse that government gave when Iran complained of militants carrying out cross-border attacks. Each time someone points to jihadis the government says, “show us the evidence!” And each time we end up eating our words. Osama bin Laden is discovered in Abbottabad. Jihadis kill Iranian soldiers. And Jamaat-ud-Dawa holds public rallies to recruit fighters and raise money for weapons for jihad. Hafiz Saed openly tells that Jamaat-ud-Dawa is carrying out jihad in Kashmir, something he says is the official policy of Pakistan government. He has also declared jihad against Israel, and his group has openly set up camps in Gaza. But still we keep saying “show us the evidence” as if we are deaf, dumb, and blind.

We know what Jamaat-ud-Dawa is, and yet we continue pretending that we don’t. So the question remains unanswered whether our inaction against jihadis is due to our being unable or unwilling. With Osama bin Laden, we have decided on incompetence as our excuse. Will we do the same with Hafiz Saeed? Or should we just be honest and admit that we support his jihad? After all, we’re already funding it.