Pakistan Becoming a Police State

riot police Karachi

The term ‘police state’ is defined as “a state controlled by a political police force that secretly supervises the citizens’ activities”. Is this a fitting description for Pakistan, which is supposedly a democracy? The answer to this question may be unsettling.

Operation Zarb-e-Azb was long overdue as terrorist outfits had been given leniency since too long which resulted in the inevitable. However, there are a growing number of examples of ‘national security’ being used as an excuse for ever expanding police powers against the citizens of Pakistan.

YouTube appears to be permanently blocked, despite the fact that no one can point to any legitimate reason why limiting access to the site is necessary. This is a relatively minor inconvenience as videos are widely available on other sites, and there are easy ways to access YouTube anyway. The point, though, is that is an early example of the state arbitrarily trying to control what information private citizens can get.

A more alarming example is the growing pressurisation of journalists and media with the most recent case being the firing of Daily Times columnist Mohammad Taqi under direction from Army. Taqi’s case has made international headlines, but it is not the only one. Actually, the media has become increasingly limited in what is reported and the positions that are presented. This is a process that began over one year ago as it was reported in February 2014 that media groups had begun directing journalists not to report anything critical of Army or right-wing political parties like Jamaat-e-Islami and PTI. During this time we have seen those like Ahmed Quraishi and Zaid Hamid returning to the spotlight and preaching a certain agenda.

While the media is increasingly becoming a hyper-nationalistic mouthpiece, Army is expanding its role as well. Civilians in the government are being replaced by military officers, and military courts are being expanded to replace the civilian justice system. Besides Zarb-e-Azb, Karachi Operation also shows no signs of ending as Rangers continue to target liberal political parties while religious extremists continue to terrorise minorities.

In each of these cases, officials and their mouthpieces in the new media justify the expansion of police powers by saying it is necessary for national security. However the latest case was unexpectedly exposed and has revealed what is really going on. Of course I am talking about the announcement that Blackberry will stop providing services in Pakistan due to government demands. As per usual, state officials have said that they have asked Blackberry for help in catching terrorists, but now a Blackberry official has revealed the truth on their website.

The truth is that the Pakistani government wanted the ability to monitor all BlackBerry Enterprise Service traffic in the country, including every BES e-mail and BES BBM message. But BlackBerry will not comply with that sort of directive. As we have said many times, we do not support “back doors” granting open access to our customers’ information and have never done this anywhere in the world.

Pakistan’s demand was not a question of public safety; we are more than happy to assist law enforcement agencies in investigations of criminal activity. Rather, Pakistan was essentially demanding unfettered access to all of our BES customers’ information. The privacy of our customers is paramount to BlackBerry, and we will not compromise that principle.

What we said in July when rumors of Pakistan’s decision started to swirl remains true today: “BlackBerry provides the world’s most secure communications platform to government, military and enterprise customers. Protecting that security is paramount to our mission. While we recognize the need to cooperate with lawful government investigative requests of criminal activity, we have never permitted wholesale access to our BES servers.”

While we are justifiably outraged by the statements from Western politicians that want to monitor all mosques and Muslims, treating everyone as if they are a potential terrorist, our government is doing exactly that already. Is it true that in order to secure the country, we must monitor every citizens as if they are a terrorist threat?

Actually there is another possible reason for blanket monitoring which has been done by totalitarian regimes in the past. By monitoring every citizen closely and reading their messages, totalitarian police states such as Nazi Germany and USSR were infamous for collecting private citizens secrets and using to blackmail them to spy on their neighbors. Is this what we have become already?

There is no question that we are in a fight for our lives against jihadi terrorists and their extremist takfiri ideology. In this fight, Army and other security forces have an obvious role to play, but we must be careful that their role does not seep into every corner of our lives and turn Pakistan into a totalitarian police state.

ماروی سرمد:کلوزنگ جہاد فیکٹریز

Al-Badar Mujahideen funeral

پچھلا جمعہ مالا کنڈ کا پچھلے کئی مہینوں کا خونی ترین دن ثابت ہوا .میڈیا رپورٹس کے مطابق اس دن دیر نے اکیس تابوت اٹھائے .
لوئر اور اپر دیر میں یہ تابوت افغانستان کے صوبے خوست سے آئے .جہاں پر امریکی ڈرون حملے کے نتیجے میں ،ایک دہشتگردوں کے ٹریننگ کیمپ میں خود کش بمباری کی ٹریننگ حاصل کرتے ہوے یہ پاکستانی ہلاک ہوئے .خوست کے گورنر کے مطابق ہلاک شدہ پاکستانیوں کی تعداد پچاس سے زیادہ ہے .
مقامی افراد کے مطابق یہ تابوت ،البدر تنظیم کے پرچم میں لپٹے ہوئے تھے .کچھ لاشیں تو صرف جسم کے چند حصوں پر مشتمل تھیں .اس خبر کے بعد یہ نیوز مکمل اندھیرے میں چلی گئی .پرنٹ میڈیا پر بھی صرف انگلش اخبارات میں اس کی خبر چھپی .ہمارے الیکٹرانک میڈیا نے “سیلف سنسر شپ ” کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس پر کوئی خبر نہیں دی ،سیلف سنسر شپ اس لئے کہ کسی ریاستی ادارے نے سنسر شپ کے احکامات جاری نہیں کئے ہوئے ہیں . عام طور پر چیختے چنگھاڑتے اینکرز نے اس موضوع پر اپنے لب سی لئے .

اگر آپ البدر کی تاریخ پڑھیں تو اس خاموشی کی وجہ سمجھ میں آتی ہے .اس نام کا گروپ انیس سو اکہتر میں پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کی “پرا کسی” کے طور پر بنگالیوں کی “مکتی باہنی” جو کہ انڈیا کی پراکسی تھی کے خلاف استمعال ہوا تھا .مشرقی پاکستان اس وقت ان ڈان تنظیموں کی لڑائی کا اکھاڑا بن گیا جب بنگالی عوام کے پاکستان سے لاتعلقی کے جذبات نے اسکو فروغ دیا .مکتی باہنی اور البدر بمع اسکی ذیلی تنظیم الشمس نے اس دور میں سنگین جنگی جرائم کا ارتکاب کیا .
حمود الرحمان کمیشن رپورٹ کے چیپٹر نمبر دو کے نکتہ نمبر میں اٹھائیس میں لکھا ہے کہ
“ہمیں پاکستان آرمی کی جانب سے بنگالی دانشوروں اور پروفیشنلز کے قتل عام کا کوئی ثبوت نہیں ملا .اگر بنگلہ دیش حکومت کے پاس اسکا کوئی ثبوت ہے تو مہیا کرے “مگر اسی صفحے کے آخر میں اس بھوت کا ذکر ہے جس نے بنگلادیشی دانشوروں اور پروفیشنلز کا قتل کیا جس کا الزام پاکستان آرمی پر لگایا جاتا رہا جو اس وقت کے مشرقی پاکستان میں تعنیات تھی .کچھ یوں لکھا تھا کہ
” اب یہ بات معلوم ہو چکی ہے کہ اتوار بارہ دسمبر انیس سو اکہتر کو انڈین آرمی ڈھاکہ کے قریب پہنچ چکی تھی ،اس وقت پاکستان کے آرمی افسران اور انکے حامی سولین حمایتیوں کی صدارتی آفس میں ملاقات ہوتی ہے .یہ دونوں مل کر دو سو پچاس ایسے دانشوروں اور پروفیشنلز کے ناموں کی لسٹ بناتے ہیں جو کہ ڈھاکہ کی “کریم” ہے اور انہیں گرفتار یا ہلاک کرنے کا منصوبہ بناتے ہیں .یہ گرفتاریاں پیر اور منگل کو سرکاری سر پرستی میں چلنے والی البدر تنظیم کے زیر عمل ہو جاتی ہیں .سرکاری ہتھیار ڈالنے کے اعلان سے صرف ایک دن قبل ،البدر ان لوگوں کو گروپس میں تقسیم کر کے انکا قتل عام کر دیتی ہے “
گو کہ ان اکیس لاشوں کی خبر تو ہمارے میڈیا کی سکرینوں پر نہ چمک سکی .مگر جماعت اسلامی کے دو رہنماؤں کی ہلاکت کی خبر ،اس پر گرما گرم مباحثہ اور ان لیڈرز کے حق میں بیانات ،اور ہیڈلاینز خوب زور شور سے جگمگاتی رہی کیونکہ میڈیا میں اینکرز کی اکثریت پرو جماعت اسلامی ہے یا اکثر محب وطن بنانے کے شوق میں یہ سب کر رہے تھے . دلیل یہ تھی یہ لیڈرز جو پھانسی چڑھے پرو پاکستانی تھے .یہ بات تو ماننی چاہئے کہ ہر انسان کو “فیئر ٹرائل ” کا حق ملنا چاہئے ،چاہے اسکا تعلق بنگلہ دیش سے ہو ،بلوچستان سے ،سعودی عرب سے ہو یا ایران سے ہو .
البدر کی جانب واپس چلتے ہیں .1971 کے جنگی جرائم کے الزامات کے بعد یہ گروپ منظر نامے سے غائب ہو جاتا ہے .لیکن اچانک 1985 میں ایک بار پھر جماعت اسلامی کے بینر تلے افغان جہاد میں یہ تنظیم ایکٹو ہو جاتی ہے .افغان جہاد کے ہی دنوں میں البدر گلبدین حکمت یار کی حزب اسلامی میں ضم ہو جاتی ہے .بعد میں مقبوضہ کشمیر میں جہاد کے دوران یہ حزب المجاہدین کے نام سے کام کرتی ہے .اس وقت البدر کے ممبران “مجاہدین” اور اب “دہشتگردوں ” کے نام سے سے پکارے جاتے ہیں .انیس سو نواسی میں امریکا اس گروپ کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے .
لیکن ٹریننگ کیمپس طالبان کے دور میں افغان زمین پر جاری رہتے ہیں .اس دوران پاکستان میں صوبہ سرحد اور اب پختون خوا میں بھی ٹریننگ کیمپس مانسہرہ کے علاقوں میں قائم رہتے ہیں .انیس سو اٹھانوے میں جا کر کہیں بخت زمین اس تنظیم کو دوبارہ مقبوضہ کشمیر کی آزادی کا نعرہ لگا کر کھڑا کر دیتے ہیں .عجیب بات یہ ہے کہ البدر کے اکثر کارکن خود کشمیری نہیں تھے اور نہ ہی بخت زمین کشمیری تھے ہاں اسکے بانی لیڈران میں سے شمار کئے جانے والے عارفین جو جانثار اور لقمان کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں وہ نسلا کشمیری تھے .انکا تعلق آزاد جموں کشمیر سے تھا .
2002 میں یہ گروپ اب امریکن اور نیٹو افواج کے خلاف افغانستان کو آزاد کرانے کا مشن پر جت جاتا ہے .اسکے ساتھ ساتھ یہ اسرائیل اور تمام اتحادی ممالک کے خلاف بھی جہاد کا اعلان کر دیتا ہے .یہ بات بھی یاد رہے کہ افغان طالبان کی طرح البدر نے کبھی پاکستان آرمی کے خلاف کسی لڑائی میں حصہ نہیں لیا .بلکہ البدر کے حلقے تو کارگل کی جنگ میں پاکستان آرمی کے ساتھ لڑنے اور انڈین آرمی کو نقصان پہنچانے کے دعوے کرتے رہے .
ایک بات یا لنک جو اس سارے عرصے میں یکساں رہا ہے وہ جماعت اسلامی اور جماعت الدعوہ ہے .بلکہ کئی بار تو البدر تنظیم ، القاعدہ ،تحریک طالبان پاکستان ،اور لشکر طیبہ کے پاکستان میں “تسلیم شدہ” سیاسی اور سوشل گروپس جماعت اسلامی ،اور جماعت الدعوہ میں رابطے کا واسطہ رہے .تحریک طالبان کا چیف ملا فضل الله جماعت اسلامی کا رکن رہا تھا .بعد میں اس نے اپنی تنظیم تحریک نفاذ شہریت شریعت محمدی بنا لی تھی .
القاعدہ کے کئی سرگرم رکن جماعت اسلامی کے لیڈران کے گھروں سے برآمد ہوئے .2004 میں القاعدہ کا نمبر تھری خالد شیخ محمد جماعت اسلامی کی ایک خاتون ونگ لیڈر کے روالپنڈی کے ایک گھر سے گرفتار ہوا .اسی طرح ابو زبیدہ بھی بھی اسی سال پکڑا گیا جیسا لشکر طیبہ اور جماعت الدعوہ نے پناہ مہیا کر رکھی تھی .
ابھی حال ہی میں ستمبر 2013 میں القاعدہ کا ایک رکن جو فدائین کی ٹریننگ کے بعد لاہور آیا تھا ،پنجاب یونیورسٹی کے ہوسٹل نمبر ایک کے کمرہ نمبر 237 سے اسلامی جمعیت طلبہ کے اس وقت کے ناظم لاہور ،احمد سجاد کے نام سے الاٹ تھا ، جو کہ جماعت اسلامی کی طلبہ تنظیم ہے ،اس سے پکڑا گیا .
جماعت اسلامی کے سابق امیر اکثر پاک فوج کے خلاف اور تحریک طالبان کے حق میں بیانات دیتے رہے .بلکہ انہوں نے تو خود کش حملوں کے خلاف بیان دینے سے بھی انکار کر دیا تھا .
طویل کہانی کو مختصر کریں تو جماعت اسلامی کے لیڈرز جن کے گھروں سے پاکستانی عوام اور فوجیوں کو قتل کرنے والے دہشت گرد پکڑے گئے ،جماعت الدعوہ اور لشکر طیبہ جن کے القاعدہ اور تحریک طالبان سے تعلقات ہیں ،انکے سپورٹر جیسے ملا عبدلعزیز وغیرہ یہ سب کھلے عام دند ناتے پھر رہے ہیں .یہ کبھی ملک کے خلاف بیانات دیتے ہیں تو کبھی رٹ توڑتے ہیں مگر انکے خلاف کوئی کاروائی کی آواز بھی بلند نہیں کر سکتا .
لوئر اور اپر دیر میں اکیس نوجوانوں کے قاتل یہ جبری تنظیمیں ہمارے نوجوانوں کو جہاد کے نام پر مروا رہی ہیں .انکے خلاف کسی قسم کی کاروائی فی الوقت ایک دیوانے کا خواب ہے

Originally published by The Nation on 24 November 2015

Does ‘zero tolerance’ policy towards militancy apply to Al-Badar Mujahideen?

Al-Badar Mujahideen funeral

It has been almost one year since PM and COAS declared a policy of ‘zero tolerance‘ for terrorism in the country. Since that declaration, secular political parties such as MQM and PPP have been targeted by Army for alleged ties between some members and terrorism. However these links are still unclear and seem to exist more in the statements of their accusers than in hard evidence. Actually, the amount of evidence that has been presented against these parties makes even the notoriously thin dossiers against India appear to be fool proof cases. Meanwhile, there is another political party whose ties to terrorism have been exposed in pure daylight, but where is the response?

A few days ago, photos and videos surfaced on social media showing funeral prayers for dozens of Pakistani jihadis who were killed in Afghanistan. The coffins were draped with flag of Al-Badar Mujahideen, the Kashmiri militant group with close ties to Jamaat-e-Islami. The photos were originally posted by JI leader Akhunzada Noor Elahi whose Facebook page is filled with Jamaatis praising these militants. It should also be noted that reports say several of the militants were also members of Jamaat-ud-Dawa.

Media has been mostly silent about this story, but GHQ’s response will tell an important story. If ‘zero tolerance’ is more than a PR campaign, we should see raids of Jamaat offices and arrests of Jamaat men? Interior Ministry has said that JUD is on ‘watch list’. Are they watching this episode? Will anything be done in response?

Army operations against MQM and other political parties have been defended strongly as not political but only enforcing the so-called ‘zero tolerance’ policy against militancy. Now it is time for GHQ to prove whether it is truly a ‘zero tolerance’ policy against militancy, or whether the same old policy of protecting ‘good Taliban’ remains the name of the game.

Abdul Aziz FIR welcome, but we have a long struggle ahead of us

Abdul Aziz FIRThe registration of FIR against Abdul Aziz is a welcome development in the aftermath of this week’s tragedy. Most inspiring were the crowds who gathered outside Lal Masjid and refused to be intimidated as they demanded justice and an end to support for terrorism. However, I still worry that we are getting our hopes up too quickly.

Abdul Aziz was an obvious target after he refused to condemn the 16th December attack at APS Boys, but remember that Munawar Hasan also had petition filed against him after he termed jihadi terrorists as ‘Shaheed’ but not our own soldiers. Over a year has passed, and nothing has come of it.

We are once again hearing about ‘zero tolerance’ for militants and that ‘Good Taliban Bad Taliban’ policy is finished, but mention of Hafiz Saeed and Jamaat-ud-Dawa is glaringly absent from any such talk.

While people protested outside Lal Masjid, they was another demonstration going on in support of Abdul Aziz and the ideology he promotes. Members of ASWJ turned out in force to show their support even while threats of suicide attacks were thrown about. Registering a FIR against Abdul Aziz is one thing. Registering a FIR against Ahmed Ludhianvi is another.

Inshallah the martyrdom of those 141 angels in Peshawar will finally spark real change in this country. But don’t think it will be instant. Reversing decades of creeping extremism will require a long struggle, and it will not be easy.

Sacrificing reason on the altar of ideology

Censored textbook

Imran Khan says education is key to the success of the country. At first glance, this sounds like an intelligent (if obvious) statement. Let’s look at the PTI chief’s comment in more detail, though. Here is what he said:

He said that the country was suffering from two parallel education systems, adding that if he comes into power, the PTI government would introduce a uniform education system across the country. He said that education was the backbone of any developed society, but in Pakistan, the government never gave importance to the most important issue.

To understand what this means in a practical sense, we can look at what education system the PTI has introduced in KPK where it is already in power.

The Pakistan Tehreek-e-Insaf-led (PTI) government in Khyber-Pakhtunkhwa has agreed to revisions in the curriculum for government schools here – including the removal of pictures of schoolgirls with their heads uncovered – for the new academic session commencing April 1, 2015.

The PTI’s coalition partner Jamaat-e-Islami (JI) raised objections over the curriculum which was approved in 2006. The JI said Islamic chapters had been removed in 2006 syllabus; the party also wanted secular chapters removed from the textbooks. The religious party asked for the removal of “objectionable” materials and the addition of 18 Quranic verses to grade 9 Chemistry book…verses on jihad were removed from the ninth-grade Islamiat textbook and added to the grade 11 course.

According to Directorate of Curricula and Teacher Education (DCTE) Director Bashir Hussain Shah, the provincial government has accepted all of JI’s demands.

This is a glimpse of the education system that Imran Khan promises to make uniform across whole of Pakistan – one that is founded not in facts and reason, but in ideology.

Actually, this system is becoming uniform already – the PTI just wants to speed up the process. Even without the guiding hand of PTI, Karachi University recently banned Dr Imtiaz Ahmed, professor of international relations at Dhaka University, from attending a conference because of his views on 1971. Dr Imtiaz Ahmed got off easy. Dead of Islamic Studies at University of Karachi Mohammad Shakil Auj was murdered in the street for promoting a liberal interpretation of Islam.

LUMS administrators were cowardly in a different way when they allowed Pervez Hoodbhoy’s contract to expire with no explanation given. They may have felt that this would allow them to do the deed while denying the reason, but the message was heard loud and clear by anyone paying the least bit of attention.

In Islamabad, a dean and students advisor were sacked after it was discovered that a Model UN programme included information about Israel. It should be noted that Israel is a member state of the UN. Or was IIUI modeling the UN of its dreams instead of the UN of the real world? Either way, how can students be expected to succeed in the real world when their education is based on a fantasy one?

Most reports on education crisis in Pakistan focus on abysmal enrollment numbers. However even full enrollment of every child in the country will not provide an educated population if our education system is one that sacrifices reason on the altar of ideology.