Pakistanis and Super Pakistanis: Who Gets ‘Justice’?

Pakistan Support Nizami

Supporters of Pakistani religious party Jamaat-e-Islami condemn the execution of Bangladesh’s the party’s chief Motiur Motiur Rahman Nizami, in Peshawar, Pakistan, Wednesday, May 11, 2016. The head of Bangladesh’s largest Islamist party was executed early Wednesday for his role in acts of genocide and war crimes during the country’s independence war against Pakistan in 1971, a senior government official said. (AP Photo/Mohammad Sajjad)

Foreign Office released a curious statement in response to hanging of Motiur Nizami in Bangladesh. According to the government, the Jamaat leader’s ‘only sin was upholding the constitution and laws of Pakistan’. The government has carefully worded its furious response as a condemnation of the ‘flawed process’ that convicted Nizami, a point that has been made by international human rights groups. However these same human rights groups have also given the same judgment of our own legal process and said that hanging those convicted by military courts is ‘not justice‘.

This point of criticising legal process is for PR purposes only. In reality, Pakistani state does not care one iota about international norms of ‘due process’ and strongly defends our sovereignty as we know best what is required for our national security and how to best handle those who are working against the national interest. Therefore, our sympathy for Nizami is not out of concern for due process and international legal norms, it is out of nationalistic pride.

There is no concern for the ‘due process’ of those killed by Pakistani forces in extra-judicial killings, neither there is concern for those hanged following secret trials by military courts that have been condemned by international legal groups. These too are Pakistani citizens, but where is our outrage and concern for their rights?

Nizami is considered a hero for his actions, so we do not want to see him punished for them. Even though he stopped being a Pakistani in 1971, his actions supporting Pakistan military gave him status of Super Pakistani and therefore he is given more rights than actual Pakistanis. This is justice?

Why hasn’t Pakistan prosecuted 1971 war criminals?

Bangladesh ObserverThe execution of certain persons in Bangladesh for alleged war crimes during 1971 may be healing old wounds in that country, but it has once again opened them in Pakistan. The Foreign Office was even so bold as to issue a statement against the executions of Mr. Salahuddin Quader Chowdhury and Mr Ali Ahsan Mujahid, both of whom were tried and convicted of atrocities against innocent civilians during 1971. This week, the Foreign Office has gone a step further and denied any responsibility for what took place against the Bengalis during that fateful and tragic time. But let us set aside the war crimes tribunals in Bangladesh and ask another question: What happened to the war crimes tribunals that we promised?

Continue reading

ماروی سرمد:کلوزنگ جہاد فیکٹریز

Al-Badar Mujahideen funeral

پچھلا جمعہ مالا کنڈ کا پچھلے کئی مہینوں کا خونی ترین دن ثابت ہوا .میڈیا رپورٹس کے مطابق اس دن دیر نے اکیس تابوت اٹھائے .
لوئر اور اپر دیر میں یہ تابوت افغانستان کے صوبے خوست سے آئے .جہاں پر امریکی ڈرون حملے کے نتیجے میں ،ایک دہشتگردوں کے ٹریننگ کیمپ میں خود کش بمباری کی ٹریننگ حاصل کرتے ہوے یہ پاکستانی ہلاک ہوئے .خوست کے گورنر کے مطابق ہلاک شدہ پاکستانیوں کی تعداد پچاس سے زیادہ ہے .
مقامی افراد کے مطابق یہ تابوت ،البدر تنظیم کے پرچم میں لپٹے ہوئے تھے .کچھ لاشیں تو صرف جسم کے چند حصوں پر مشتمل تھیں .اس خبر کے بعد یہ نیوز مکمل اندھیرے میں چلی گئی .پرنٹ میڈیا پر بھی صرف انگلش اخبارات میں اس کی خبر چھپی .ہمارے الیکٹرانک میڈیا نے “سیلف سنسر شپ ” کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس پر کوئی خبر نہیں دی ،سیلف سنسر شپ اس لئے کہ کسی ریاستی ادارے نے سنسر شپ کے احکامات جاری نہیں کئے ہوئے ہیں . عام طور پر چیختے چنگھاڑتے اینکرز نے اس موضوع پر اپنے لب سی لئے .

اگر آپ البدر کی تاریخ پڑھیں تو اس خاموشی کی وجہ سمجھ میں آتی ہے .اس نام کا گروپ انیس سو اکہتر میں پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کی “پرا کسی” کے طور پر بنگالیوں کی “مکتی باہنی” جو کہ انڈیا کی پراکسی تھی کے خلاف استمعال ہوا تھا .مشرقی پاکستان اس وقت ان ڈان تنظیموں کی لڑائی کا اکھاڑا بن گیا جب بنگالی عوام کے پاکستان سے لاتعلقی کے جذبات نے اسکو فروغ دیا .مکتی باہنی اور البدر بمع اسکی ذیلی تنظیم الشمس نے اس دور میں سنگین جنگی جرائم کا ارتکاب کیا .
حمود الرحمان کمیشن رپورٹ کے چیپٹر نمبر دو کے نکتہ نمبر میں اٹھائیس میں لکھا ہے کہ
“ہمیں پاکستان آرمی کی جانب سے بنگالی دانشوروں اور پروفیشنلز کے قتل عام کا کوئی ثبوت نہیں ملا .اگر بنگلہ دیش حکومت کے پاس اسکا کوئی ثبوت ہے تو مہیا کرے “مگر اسی صفحے کے آخر میں اس بھوت کا ذکر ہے جس نے بنگلادیشی دانشوروں اور پروفیشنلز کا قتل کیا جس کا الزام پاکستان آرمی پر لگایا جاتا رہا جو اس وقت کے مشرقی پاکستان میں تعنیات تھی .کچھ یوں لکھا تھا کہ
” اب یہ بات معلوم ہو چکی ہے کہ اتوار بارہ دسمبر انیس سو اکہتر کو انڈین آرمی ڈھاکہ کے قریب پہنچ چکی تھی ،اس وقت پاکستان کے آرمی افسران اور انکے حامی سولین حمایتیوں کی صدارتی آفس میں ملاقات ہوتی ہے .یہ دونوں مل کر دو سو پچاس ایسے دانشوروں اور پروفیشنلز کے ناموں کی لسٹ بناتے ہیں جو کہ ڈھاکہ کی “کریم” ہے اور انہیں گرفتار یا ہلاک کرنے کا منصوبہ بناتے ہیں .یہ گرفتاریاں پیر اور منگل کو سرکاری سر پرستی میں چلنے والی البدر تنظیم کے زیر عمل ہو جاتی ہیں .سرکاری ہتھیار ڈالنے کے اعلان سے صرف ایک دن قبل ،البدر ان لوگوں کو گروپس میں تقسیم کر کے انکا قتل عام کر دیتی ہے “
گو کہ ان اکیس لاشوں کی خبر تو ہمارے میڈیا کی سکرینوں پر نہ چمک سکی .مگر جماعت اسلامی کے دو رہنماؤں کی ہلاکت کی خبر ،اس پر گرما گرم مباحثہ اور ان لیڈرز کے حق میں بیانات ،اور ہیڈلاینز خوب زور شور سے جگمگاتی رہی کیونکہ میڈیا میں اینکرز کی اکثریت پرو جماعت اسلامی ہے یا اکثر محب وطن بنانے کے شوق میں یہ سب کر رہے تھے . دلیل یہ تھی یہ لیڈرز جو پھانسی چڑھے پرو پاکستانی تھے .یہ بات تو ماننی چاہئے کہ ہر انسان کو “فیئر ٹرائل ” کا حق ملنا چاہئے ،چاہے اسکا تعلق بنگلہ دیش سے ہو ،بلوچستان سے ،سعودی عرب سے ہو یا ایران سے ہو .
البدر کی جانب واپس چلتے ہیں .1971 کے جنگی جرائم کے الزامات کے بعد یہ گروپ منظر نامے سے غائب ہو جاتا ہے .لیکن اچانک 1985 میں ایک بار پھر جماعت اسلامی کے بینر تلے افغان جہاد میں یہ تنظیم ایکٹو ہو جاتی ہے .افغان جہاد کے ہی دنوں میں البدر گلبدین حکمت یار کی حزب اسلامی میں ضم ہو جاتی ہے .بعد میں مقبوضہ کشمیر میں جہاد کے دوران یہ حزب المجاہدین کے نام سے کام کرتی ہے .اس وقت البدر کے ممبران “مجاہدین” اور اب “دہشتگردوں ” کے نام سے سے پکارے جاتے ہیں .انیس سو نواسی میں امریکا اس گروپ کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے .
لیکن ٹریننگ کیمپس طالبان کے دور میں افغان زمین پر جاری رہتے ہیں .اس دوران پاکستان میں صوبہ سرحد اور اب پختون خوا میں بھی ٹریننگ کیمپس مانسہرہ کے علاقوں میں قائم رہتے ہیں .انیس سو اٹھانوے میں جا کر کہیں بخت زمین اس تنظیم کو دوبارہ مقبوضہ کشمیر کی آزادی کا نعرہ لگا کر کھڑا کر دیتے ہیں .عجیب بات یہ ہے کہ البدر کے اکثر کارکن خود کشمیری نہیں تھے اور نہ ہی بخت زمین کشمیری تھے ہاں اسکے بانی لیڈران میں سے شمار کئے جانے والے عارفین جو جانثار اور لقمان کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں وہ نسلا کشمیری تھے .انکا تعلق آزاد جموں کشمیر سے تھا .
2002 میں یہ گروپ اب امریکن اور نیٹو افواج کے خلاف افغانستان کو آزاد کرانے کا مشن پر جت جاتا ہے .اسکے ساتھ ساتھ یہ اسرائیل اور تمام اتحادی ممالک کے خلاف بھی جہاد کا اعلان کر دیتا ہے .یہ بات بھی یاد رہے کہ افغان طالبان کی طرح البدر نے کبھی پاکستان آرمی کے خلاف کسی لڑائی میں حصہ نہیں لیا .بلکہ البدر کے حلقے تو کارگل کی جنگ میں پاکستان آرمی کے ساتھ لڑنے اور انڈین آرمی کو نقصان پہنچانے کے دعوے کرتے رہے .
ایک بات یا لنک جو اس سارے عرصے میں یکساں رہا ہے وہ جماعت اسلامی اور جماعت الدعوہ ہے .بلکہ کئی بار تو البدر تنظیم ، القاعدہ ،تحریک طالبان پاکستان ،اور لشکر طیبہ کے پاکستان میں “تسلیم شدہ” سیاسی اور سوشل گروپس جماعت اسلامی ،اور جماعت الدعوہ میں رابطے کا واسطہ رہے .تحریک طالبان کا چیف ملا فضل الله جماعت اسلامی کا رکن رہا تھا .بعد میں اس نے اپنی تنظیم تحریک نفاذ شہریت شریعت محمدی بنا لی تھی .
القاعدہ کے کئی سرگرم رکن جماعت اسلامی کے لیڈران کے گھروں سے برآمد ہوئے .2004 میں القاعدہ کا نمبر تھری خالد شیخ محمد جماعت اسلامی کی ایک خاتون ونگ لیڈر کے روالپنڈی کے ایک گھر سے گرفتار ہوا .اسی طرح ابو زبیدہ بھی بھی اسی سال پکڑا گیا جیسا لشکر طیبہ اور جماعت الدعوہ نے پناہ مہیا کر رکھی تھی .
ابھی حال ہی میں ستمبر 2013 میں القاعدہ کا ایک رکن جو فدائین کی ٹریننگ کے بعد لاہور آیا تھا ،پنجاب یونیورسٹی کے ہوسٹل نمبر ایک کے کمرہ نمبر 237 سے اسلامی جمعیت طلبہ کے اس وقت کے ناظم لاہور ،احمد سجاد کے نام سے الاٹ تھا ، جو کہ جماعت اسلامی کی طلبہ تنظیم ہے ،اس سے پکڑا گیا .
جماعت اسلامی کے سابق امیر اکثر پاک فوج کے خلاف اور تحریک طالبان کے حق میں بیانات دیتے رہے .بلکہ انہوں نے تو خود کش حملوں کے خلاف بیان دینے سے بھی انکار کر دیا تھا .
طویل کہانی کو مختصر کریں تو جماعت اسلامی کے لیڈرز جن کے گھروں سے پاکستانی عوام اور فوجیوں کو قتل کرنے والے دہشت گرد پکڑے گئے ،جماعت الدعوہ اور لشکر طیبہ جن کے القاعدہ اور تحریک طالبان سے تعلقات ہیں ،انکے سپورٹر جیسے ملا عبدلعزیز وغیرہ یہ سب کھلے عام دند ناتے پھر رہے ہیں .یہ کبھی ملک کے خلاف بیانات دیتے ہیں تو کبھی رٹ توڑتے ہیں مگر انکے خلاف کوئی کاروائی کی آواز بھی بلند نہیں کر سکتا .
لوئر اور اپر دیر میں اکیس نوجوانوں کے قاتل یہ جبری تنظیمیں ہمارے نوجوانوں کو جہاد کے نام پر مروا رہی ہیں .انکے خلاف کسی قسم کی کاروائی فی الوقت ایک دیوانے کا خواب ہے

Originally published by The Nation on 24 November 2015

Silencing Balochistan

Banned LUMS talkIt’s not often that an academic discussion becomes national news, but this is the case with a talk on Balochistan planned to take place at LUMS. Actually, the talk would have come and gone with little attention at all except that the organisers were forced to cancel it, allegedly under direct order of ISI.

Talking to Pakistan Today, LUMS faculty member Dr Taimur Rehman said, “A delegation from the Inter-Services Intelligence (ISI) visited LUMS in the evening and presented a letter calling for cancellation of the talks. They said that Balochistan is a sensitive issue and that the moot could be used to malign Pakistan,” said Dr Rehman, adding that the intelligence officials were firm in their directive.

The decision to ban the discussion began to receive criticism on social media, only to be quickly responded by dozens of posts supporting the decision. Interestingly, many of the posts supporting the decision appear to be coming from new accounts with almost no followers posting exactly the same thing over and over again. Continue reading

Children of War: Facing the Truth of 1971

Children of War

“Forgiving is not forgetting; its actually remembering–remembering and not using your right to hit back. Its a second chance for a new beginning. And the remembering part is particularly important. Especially if you don’t want to repeat what happened.”

–Desmond Tutu

It has been over three decades since the tragedy of 1971. Enough time for those involved to look back and consider with the benefit of hindsight, what went wrong. In a new article in Foreign Affairs, Harold H. Saunders a senior member of the US National Security Staff during the time, looks back on the events that led up to the 1971 war and asks whether mistakes made by the US added to the tragic events that followed.

The events of that war are also the subject of two recent films, and the treatment of each should be taken into consideration. First is the movie Gunday, which is an Indian attempt to white wash the entire affair and presents Bangladeshis speaking Hindi, declaring themselves as Indian, and in one infamous scene rejecting the Independence of Pakistan in 1948. What was supposed to be an action-packed blockbuster ended up as a massive failure because no one was interested in seeing such a distorted version of history.

Another new movie has received a much different reaction. ‘Children of War’ is another Indian-made film, but this time the history was not manipulated or distorted. Actually, it was told in all gory details, even those that many Bangladeshi would hope to never see.

Despite the grim portrayal of atrocities, Children of War film was not greeted with anger, but premiered in Bangladesh to an esteemed audience that included Information Minister Hasanul Haq Inu, Cultural Affairs Minister Asaduzzaman Noor and a number of other lawmakers and political personalities.

Interestingly, the film does not attempt to make the Indians or any other group as heroes either. In fact it is reported that in some cinemas, anti-American slogans were raised against its willingness to stand with Gen Ayub. Rather it is a painful reminder of the horrors of the 1971 war.

The film has been praised by Member of European Parliament Ryszard Czarnecki who ‘strongly recommended to the European Parliament and other European institutions – committed to the principles of secularism, democracy and tolerance – to promote this movie in order to witness the realist depiction of events of the 1971 genocide in Bangladesh’. 

Sadly, the film has been banned where it is most needed.  Central Board of Film Censors in Islamabad termed the film as ‘one-sided’. But what excuse can be given to justify such atrocities? The real danger, though, is that without facing the brutal truth and remembering what happened, we may doom ourselves to repeat it.