کیا پاکستانی قومی سلامتی کو سوشل میڈیا سے خطرہ ہے ؟

twittercrosshair

رفیع عامر

گزشتہ برس جب پاکستانی وفاقی حکومت نے سائبر کرائم بل پیش کیا تو اس کی چند شقوں پر خاصی تنقید کی گئی – کہا گیا کہ یہ شقیں بہت مبہم ہیں اور ان کی غیر متعین حدود کی وجہ سے ان کے بے جا استعمال کا اندیشہ ہے – یہ بھی تنبیہہ کی گئی کہ بعید نہیں کہ مستقبل میں اس قانون کو حکومت کی اپنی پارٹی اور اس کے حامیوں کے خلاف استعمال کیا جائے – بدقسمتی سے ان اندیشوں کو سچ ہوتے زیادہ دیر نہیں لگی

رواں سال کے آغاز میں سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کی پکڑ دھکڑ کا جو عمل شروع ہوا وہ ابھی تک جاری ہے -حالیہ دنوں میں اس کاروائی کا مرکزی نشانہ حکومتی پارٹی کے حامی ہیں – جن افراد کے خلاف یہ کاروائی کی گئی ان پر حکومتی ، فوجی اور عدالتی اداروں کے خلاف قابل اعتراض مواد پھیلا کر معاشرے میں انتشار پھیلانے کا الزام لگایا گیا – ان الزامات میں نہ تو معاشرے میں اس مبینہ انتشار کی کوئی متعین نشاندہی کی گئی اور نہ ہی یہ بتایا گیا کہ وہ قابل اعتراض مواد تھا کیا – بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کچھ خاص اداروں کے کردار پر تنقید ہی قابل اعتراض اور قابل گرفت ٹھہرا دیا گیا ہے

اداروں کا احترام پاکستان میں ایک عجیب و غریب سی اصطلاح بن چکی ہے – پاکستان میں ان گنت ادارے ہیں اور ان پر مسلسل تنقید کی جاتی ہے – مثال کے طور پر پولیس کے ادارے پر تنقید شائد قومی مشغلہ بن چکا ہے – پولیس کا ادارہ تو مین سٹریم میڈیا پر مزاحیہ پروگراموں تک کا موضوع بنتا رہتا ہے لیکن آج تک اس پر تنقید کے خلاف کسی قانون سازی کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی – اور تو اور، پارلیمان، جو کہ ایک آئینی جمہوریت کا سب سے معزز ادارہ ہوتا ہے، ایسی تنقید سے بالا نہیں – اسے ڈاکوؤں کی مجلس تک کہہ دیا گیا لیکن اس پر کبھی کوئی کاروائی نہیں کی گئی تو پھر ایسا کیوں ہے کہ صرف دو ہی ادارے ہیں جنہیں بالائے تنقید رکھنا ضروری سمجھا جاتا ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ اس طرح ان اداروں کو بلا خوف تنقید من مانی کی اجازت دینا مقصود ہے ؟

اطلاعات کے مطابق ان افراد کو گرفتار تو ایف آئی اے کرتی ہے لیکن تفتیش فوجی افسران کرتے ہیں جو کہ بذات خود سائبر کرائم قانون کی خلاف ورزی ہے – پوچھ گچھ میں یہ بھی دریافت کیا جاتا ہے کہ کیا ان کے بھارتی خفیہ ایجنسی را سے کوئی تعلق ہے – یہ امر ناقابل فہم ہے کہ کسی مخصوص ادارے پر تنقید کرنے کا محرک کیا صرف دشمن ایجنٹ ہونا ہی ہو سکتا ہے؟ کیا عوام کو یہ حق حاصل نہیں کہ اپنے ٹیکس پر چلنے والے اداروں سے اختلاف رائے کر سکیں؟ تنقید اور اختلاف رائے تو ایک طرف ، اب تو کوئی سوال پوچھنا بھی جرم کا درجہ اختیار کر چکا ہے – آج کی دنیا میں درست معلومات تک رسائی دشوار نہیں رہی اور ان معلومات کی روشنی میں کسی مخصوص بیانیے سے اختلاف کا مطلب قطعی طور پر یہ نہیں کہ اس اختلاف کے پیچھے را کا ہاتھ ہے – حب الوطنی کا مطلب صرف ہر بیانیے کو من و عن تسلیم کرنا نہیں – کبھی کبھی اختلاف کرنا بھی حب الوطنی کے تقاضوں میں شامل ہو جاتا ہے اور اس اختلاف سے نہ تو قومی سلامتی کو کوئی خطرہ ہوتا ہے اور نہ ہی اس سے معاشرے میں انتشار پھیلتا ہے

گزشتہ جون ایک انٹرویو میں آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل نے ایک انٹرویو میں ارشاد فرمایا کہ سوشل میڈیا پر ریاست مخالف پروپیگنڈا ایک بین الاقوامی سازش کا حصہ ہے – حسب معمول انہوں نے کسی مخصوص مواد کا حوالہ نہیں دیا – فی الحال اس سوال کو نظرانداز کردیتے ہیں کہ ایک ایٹمی طاقت، جس کے ناقابل تسخیر ہونے کے دعوے کیے جاتے ہیں، کو سوشل میڈیا سے اتنا خوف کیوں ہے – دو نکات بہرحال قابل غور ہیں – ایک یہ کہ کسی ادارے کے خلاف بات کرنے کا مطلب کسی طور بھی ریاست کے خلاف بات کرنا نہیں سمجھا جاسکتا اور دوسرا یہ کہ اگر آپ کے پاس کسی ایسی سازش کے شواہد ہیں تو اس کے تانے بانے بکھیرنا آپ ہی کا کام ہے اور آپ ہی کے پاس ایسا کرنے کے وسائل بھی ہیں – ایک عام آدمی کو اس کی چند ٹویٹس پر اٹھا کر اس سے اس کے را سے تعلقات پر سوال کرنا اس مبینہ سازش کے خلاف ایک ناکام حکمت عملی ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ ان تمام افراد کو جنہیں سائبر کرائم میں ملوث ہونے کے الزام میں اغوا یا گرفتار کیا گیا انہیں بعد ازاں کسی بھی ملک دشمن کاروائی میں ملوث ہونے کا الزام لگائے بغیر چھوڑ دیا گیا –

قومی سلامتی کے اداروں سے گزارش ہے کہ اپنا دل بڑا کیجئے اور تنقید اور اختلاف برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا کیجئے – پاکستان کے شہری نہ تو آپ کے دشمن ہیں اور نہ ہی آپ کی رعایا سو ان سے یہ ناروا سلوک قطعی ناجائز ہے

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *